17 February, 2019


تازہ ترین معلومات


سالانہ عرس عزیزی کی دوسری شب علما ودانشوران ملت کے خطابات ، عوام وخواص کا جم غفیر ، ۲۷۸ فارغین کی دستار بندی ہوئی

’’ہر عہد میں علما و ارباب کمال ہی ملکی سیاست کی بھینٹ چڑھے ہیں ‘‘[خطیب الہند مولانا عبید اللہ خاں اعظمی ] ’’قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا ارشاد فرمائی : اے اللہ مجھے بھلی دنیا عطا فرما اور اچھی آخرت سے بھی نواز۔ اس دعا کا تقاضا ہے کہ ہمیں اپنی دنیوی معاملات بھی اچھے رکھنے ہیں اور اپنی اچھی آخرت کی بھی فکر کرنی ہے ۔ اسلام دو مضبوط بازووں کا نام ہے ، ایک مذہب ، دوسرا سیاست ۔ مختلف عہد کی اسلامی تاریخیں پڑھیں تو اندازہ ہوگا کہ جو اہل علم مذہبی امور کی انجام دہی کی کوشش کرتے تھے وہی علما سیاسی رموز بھی رکھتے تھے اور ملکی سیاست میں ان کے مشوروں کو دخل تھا ۔ دینی علوم وعقلی فنون کے ماہرین ملک کی خدمت کا جذبہ بھی رکھتے تھے ، علامہ فضل حق خیرآبادی اپنے وقت کے اعلیٰ حضرت تھے ، ساتھ ہی مغل حکمراں بہادر شاہ کے مشیر اور مرزا غالب کے استاذ بھی تھے ،اور دہلی کی جامع مسجد میں انھوں نے ہی انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد دیا تھا جس کی پاداش میں انھیں کالا پانی کی اذیت ناک سزا سنائی گئی تھی ۔اس لیے ایک عظیم جامعہ سے دین کے ماہرین بھی پیدا ہوں اور سیاسی رہنما بھی ۔ ‘‘ ان خیالات کا اظہار ۶؍۷؍فروری ۲۰۱۹ء کو جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور میں منعقدہ عرس عزیزی کی دوسری شب میں قل شریف کے بعد خطیب الہند مولانا عبیداللہ خاں اعظمی سابق ممبر آف پارلیمنٹ نے کیا۔ شرعی حدود ہر سال ہونے والے دو روزہ عرس عزیزی کی دونوں شب علما و مشائخ کے خطابات ہوتے ہیں اور سامعین کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے ۔ دوسری شب بعد نماز عشا قاری عبدالسلام قادری کی تلاوت اور مولانا قیصر اعظمی کی نقابت میں یہ بزم پاک شروع ہوئی جس کا اختتام ساڑھے تین شب میں فارغین جامعہ اشرفیہ کی دستار بندی کے بعد حضرت سربراہ اعلیٰ علامہ عبدالحفیظ عزیزی دام ظلہ العالی کے ناصحانہ خطاب اور دعا پر ہوا ۔ پورا عزیزی اسٹیج علما ومشائخ سے بھرا ہوا تھا ۔ان میں حضرت مولانا نصیر الدین عزیزی ، علامہ محمد احمد مصباحی ، مفتی محمد نظام الدین رضوی ، مولانا عبدالمبین نعمانی ، مولانا عبدالحق رضوی ، مولانا نعیم الدین عزیزی ،مولانا سلطان رضا مصباحی ، برطانیہ ، مولانا نعیم اخترمصباحی ، مفتی محمد صادق مصباحی ،مولانا سلمان رضا فریدی ، مسقط ،مولاناقاری اسلام اللہ عزیزی، قاری نورالہدیٰ مصباحی ، قاری جلال الدین قادری ،مولانا مجاہد حسین حبیبی ، مولانا رحمت علی مصباحی ، کولکاتا،مولانا مجاہد حسین مصباحی ، الہ آباد ، مولانا نثار احمد مصباحی ، مولانا ازہار احمد امجدی ، مولانا محمد افروز قادری، وغیرہم کا نام لیا جاسکتا ہے۔ سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ نے عرس کے جملہ منتظمین ، اراکین جامعہ ، پولیس محکمہ اور ڈاکٹروں کی ٹیموں کا شکریہ ادا کیا اور عرس عزیزی میں صفائی اور نمازوں کا خاص اہتمام کرنے کی کوششوں کی سراہنا کرتے ہوئے طلبہ تنظیم مجلس خیر خواہ کے ممبران کو مبارک باد پیش کی اور ایک اہل خیر کی طرف سے انھیں دیے گئے پندرہ ہزار کی رقم کا اعلان بھی فرمایا ۔ آپ نے جامعہ کے معاونین کی ستائش کی اور مسلسل تقریباً ۳۷ سالوں سے تشریف لالکر سینکڑوں کی تعداد میں اشرفیہ کا ممبر بنانے والے الحاج مولاناقاری اسلام اللہ عزیزی ، ممبئی کی تحسین فرمائی ۔ آج خطاب کرنے والوں میں مولانا جمیل اختر مصباحی ، مولانا ناظم عدالت قادری، ہالینڈ ،مولانا فاروق نظامی علیمی ، جمداشاہی ، مفتی منظور احمد عزیزی، سلطان پور ، مولانا سید حسنین میاں ، الہ آباد ، مولانا تحسین رضا مصباحی ، بارہ بنکی ، مولانا عبدالرشید داؤدی ، جموں وکشمیر، مولانا نعیم اختر مصباحی ، ممبئی ، اور مولانا عبید اللہ خان اعظمی کے اسما قابل ذکر ہیں ۔ جانشین حافظ ملت حضرت عزیز ملت نے پانچ افراد کو سلسلہ عالیہ قادریہ ، رضویہ ، امجدیہ ، عزیزیہ کی خلافت و اجازت سے نوازا۔ اور دو شخصیات کو تنظیم ابناے اشرفیہ کی جانب سے ’’حافظ ملت ایوارڈ‘‘ دیا گیا۔ ایک اشرف العلما ء حضرت مولانا سید حامد اشرف جیلانی علیہ الرحمہ ، ممبئی اور دوسرے مولانا محمد اقبال مصباحی ، برطانیہ ۔ اس سال جامعہ کے مختلف شعبوں میں فارغین کی تعداد ۶۶۷ ہے جن میں ۲۷۸ کو دستار دی گئی ، بقیہ کو صرف سند دی جاتی ہے ۔ یہ جامعہ اشرفیہ کا امتیاز ہے ۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved