23 August, 2017

شعبے


تربیت تدریس

جامعہ میں تربیت تدریس کا بھی ایک مستقل شعبہ ہے جس میں محنتی اور باصلاحیت فارغین اشرفیہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جو دو برس تک اساتذہ کے زیر نگرانی تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں ۔ انھیں جامعہ کی جانب سے معقول وظیفہ اور سند بھی دی جاتی ہے۔

کمپیوٹر سینٹر

ایک خوب صورت عمارت میں (حافظ ملت انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس ) کمپیوٹر سینٹر قائم ہو چکا ہے۔ جس کے اندر ملٹی میڈیا بیس کمپیوٹرس کی تعداد ۲۵؍ ہے۔ نیلیٹ چنڈی گڑھ (NIELIT CHANDIGARH)سے منظور شدہ ایک سالہ ڈپلوما کورس کے مطابق کمپوزنگ ،ڈیزائنگ اور پروگرامنگ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے لیے تین اساتذہ مقرر ہیں۔

مجلس شرعی

عہد حاظر کے ابھرتے ہوئے جدید مسائل کے حل کے لیے ۲۳؍ جمادی الآخرہ ۱۴۱۳ھ مطابق ۱۹؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز شنبہ ’’مجلس شرعی‘‘ کے نام سے اس بورڈ کا قیام عمل میں آیا اور اسی وقت ماہر وتجربہ کار، ذی شعور وباصلاحیت علماے کرام ومفتیان اسلام کو ارکانِ مجلس کے طور پر نامزد کیا گیا۔ بعد میں اکابر علما ومشائخ پر مشتمل ایک سہ رکنی فیصل بورڈ کی تشکیل ہوئی تاکہ وہ سیمینار کے تمام مباحث، تحقیقات وتنقیحات اور مندوبین علما کی آرا سننے کے بعد ان مسائل کا فیصلہ کرے جو سیمینار میں حل نہ ہو سکے، اور حل شدہ مسائل کی توثیق وتصدیق کرے۔ مجلس شرعی کے زیر اہتمام تا دم تحریر مختلف اہم موضوعات پر چھوٹے بڑے ۲۲؍ فقہی سیمینار منعقد ہو چکے ہیں۔

ادارہ تحقیقات حافظ ملت

۱۹۸۹ء میں حضرت عزیز ملت کی سرپرستی میں ادارہ تحقیقات حافظ ملت کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا بنیادی مقصد حیات حافظ ملت، جامعہ اشرفیہ اور فرزندان اشرفیہ کے حوالے سے سوانحی، تاریخی اور تحقیقی کام کرنا ہے۔ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۸۹ء کو اس کا پہلا حافظ ملت سیمینار ہوا، دوسرا حافظ ملت سیمینار ۷؍ دسمبر ۱۹۹۱ء کو منعقد ہوا۔

اس ادارہ سے ایک اہم سیمینار شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی صدر شعبہ افتا کی حیات وخدمات پر بھی ان کی حیات میں ہو چکا ہے۔ پہلے سیمینار کے مقالات کا مجموعہ بنام ’’حافظ ملت، افکار وکارنامے‘‘ ۱۹۹۰ء میں ادارہ تحقیقات سے شائع ہو چکا ہے۔ دوسرے سیمینار کے مقالات ماہنامہ اشرفیہ سے بنام انوار حافظ ملت نمبر، ۱۹۹۴ء میں شائع ہو چکے ہیں۔

مجلس برکات

۱۴۱۹ھ / ۱۹۹۹ء میں ’’مجلس برکات‘‘ کا قیام عمل میں آیا ۔ اس کا ایک مستقل بورڈ ہے اس کا بنیادی نشانہ نظر ثانی اور جدید حواشی کے ساتھ درسی نظامی کی اشاعت ہے اور حسب ضرورت شروحات نویسی اور ان کی اشاعت بھی۔ اساتذہ اشرفیہ اور دیگر ارباب فکر ودانش پوری تندہی کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔ بفضلہ تعالی! اب تک درجنوں کتابیں دیدہ زیب سر ورق اور جدید حواشی کے ساتھ زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں اور کچھ تشنۂ طبع ہیں۔ مطبوعہ کتابوں کی ایک جزوی فہرست درج ذیل ہے

نشر واشاعت

قلم کی اہمیت ہر دور میں تسلیم کی گئی ہے۔ الجامعۃ الاشرفیہ نے بھی تصنیف واشاعت کی ضرورت واہمیت محسوس کرتے ہوئے ۱۱؍ رجب ۱۹۷۴ء میں شعبہ نشریات قائم کیا جس نے مختلف اوقات میں متعدد کتابیں اور سالے شائع کیے سالانہ کلنڈر بھی شائع کیا جاتا ہے اور ہر سال عید الفطر اور عید الاضحیٰ سے قبل ضروری مسائل پر مشتمل ہزاروں پوسٹر ملک بھر میں ارسال کیے جاتے ہیں۔ جامعہ کی چند مطبوعات کے نام حسب ذیل ہیں:

العذاب الشدید از حافظ ملت علیہ الرحمہ
المصباح الجدید از حافظ ملت علیہ الرحمہ
ارشاد القرآان از حافظ ملت علیہ الرحمہ
ایک تاریخی مرقع از علامہ ارشد القادری مصباحی
الجامعۃ الاشرفیہ از علامہ ارشد القادری مصباحی
الجامعۃ الاشرفیہ (عربی) از علامہ یسین اختر مصباحی
تعارف الجامعۃ الاشرفیہ لسانی از ڈاکٹر سید شمیم گوہرؔ مصباحی
الوسیلۃ السنیہ از مولانا محمد شفیع اعظمی مصباحی
المدیح النبوی از علامہ یسین اختر مصباحی
الادب الجمیل از مولانا افتخار احمد مصباحی
اشرفیہ کا ماضی اور حال از مولانا بدر القادری مصباحی

شریعت کالج(درس نظامی)

مدارس اسلامیہ میں رائج طریقۂ تدریس ، نصاب تعلیم و نظام تدریس کو درس نظامی کہا جاتا ہے ۔ علومِ اسلامیہ پر مشتمل اس آٹھ سالہ کورس کو ’’عالم کورس‘‘ بھی کہتے ہیں۔

درس نظامی میں صرف، نحو،منطق،حکمت، ریاضی، بلاغت، فقہ، اصول فقہ، کلام، تفسیر،حدیث وغیرہ بائیس موضوعات کی تقریباً ساٹھ کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔

موجودہ دور کے تقاضے کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نصاب میں ہندی ، انگریزی ، حساب اور کمپیوٹر کی تعلیم کو بھی لازمی طور پر شامل کیا گیا ہے۔

دعوت وتبلیغ

آج کے اس پرفتن دور میں جب کہ دعوت وتبلیغ کی طرف سے بڑی غفلت برتی جارہی ہے،دینی دعوت کے تقاضے پسِ پشت ڈالے جاچکے ہیں، خالصاً للہ دین کی تبلیغ واشاعت کا تصور ہی عنقا ہوتا جارہا ہے، ایسے میں بھی جامعہ نے اس میدان میں بڑے کارنامے انجام دیے ہیں۔ویسے تو جامعہ کاہر شعبہ دعوت وتبلیغ دین ہی سے متعلق ہیں۔ اس کے باوجود ذمہ داران جامعہ نے اس کے لیے باضابطہ یہ شعبہ قائم کیا ہے۔ قرب وجوار اور دور دراز کے علاقوں میں جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے جامعہ کی طرف سے دعات ومبلغین بھیجے جاتے ہیں۔ طلبہ بھی وقت نکال کر قریبی بستیوں میں دعوت کا کام انجام دیتے ہیں۔

حفظ القرآن

جامعہ میں حفظ کی چار درس گاہیں ہیں۔ ہر درس گاہ میں تقریبا ۴۰؍ طلبہ کا داخلہ ہوتا ہے۔ یہ شعبہ اعظم گڑھ ، خاص طور سے مبارک پور کے طلبہ کے لیے ہے۔

تجوید وقراءت

یہ درس نظامی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ایک مخصوص درجہ میں پہنچنے کے بعد ہر طالب علم کے لیے اس کی تعلیم ضروری ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے باضابطہ نصاب بھی مقرر ہے جس میں پاس ہونا ہر طالب علم کے لیے لازم ہے۔ اس کے علاوہ تجوید وقراءت کے خصوصی درجات بھی ہیں جن میں قراءت حفص ، قراءت سبعہ وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔

تخصص فقہ حنفی

یہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا سب سے پہلا تحقیقی شعبہ ہے ، جس میں فقہ اور اصول فقہ کی خاص تربیت دے کر مفتیان دین پیدا کیے جاتے ہیں، یہ شعبہ بیسوں سال سے اِس اہم کام کو انجام دے رہا ہے ، ابھی تک سیکڑوں کی تعداد میں مفتیان کرام فارغ ہو چکے ہیں جو ہند اور بیرون ہند خدمت دین میں سرگرم ہیں۔

تخصص عربی ادب

یہ شعبہ بھی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے اہم شعبہ جات میں سے ایک ہے، اِس کے تحت عربی ادب سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ کو عربی زبان بولنے ، لکھنے اور سمجھنے کی تربیت دی جاتی ہے، تا کہ وہ قومی اور مادری زبان کے ساتھ ساتھ عربی زبان میں بھی دین اسلام کی گراں قدر خدمات انجام دے سکیں، اور اکابر اہل سنت کے علمی یادگاروں کو عربی میں ترجمہ کرکے دنیا بھر میں عام سے عام کرسکیں۔

مشق افتا

تحقیق فی الفقہ کے شعبے میں طلبا کی دلچسپی کو دیکھتے ہوے مشق افتا کا ایک مستقل شعبہ قائم ہو چکا ہے، جس میں ماہر مفتیان کرام کی نگرانی میں فتاوی نویسی کی مشق کرائی جاتی ہے اور فتاوی نویسی کے اصول وضوابط کی جانکاری کے لیے باضابطہ نصاب بھی مقرر ہے۔

اختصاص فی الحدیث

آج جب کہ باطل اور گمراہ فرقے اہلِ سنت کی مستدل بہ روایات کو ضعیف اور ناقابل استدلال قرار دینے میں سرگرم ہیں، اِس شعبے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ضرورت تھی کہ ایک ایسا شعبہ قائم کیا جائے جس میں حدیث اور اصول حدیث کے ماہر علما پیدا کیے جائیں جو احادیث کی چھان بین کریں ، باطل فرقوں کے دھوکے اور فریب سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ الحمد للہ جامعہ اشرفیہ مبارک میں یہ شعبہ قائم ہوا ، اور ماہر اساتذہ شب و روز اِس کے فروغ و ترقی میں مصروف کار ہیں۔

تخصص ادیان ومذاہب

آج باطل اور گمراہ فرقوں نے اپنے اوہام اور شیطانی نظریات کی تبلیغ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، ایسے حالات میں ضرورت تھی کہ اہلِ سنت کا ایک ایسا بھی شعبہ ہوں جہاں سارے ادیان و مذاہب کی تحقیق کرائی جا سکے، اور ایسے دقاق علما و مناظرین پیدا کیے جائیں جو باطل فرقوں کا رد بلیغ کر سکیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ جامعہ اشرفیہ نے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئےشعبۂ تقابل ادیان قائم کیا اور اس کے لیے ماہر اساتذہ مقرر کیے۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved