16 November, 2018


تازہ ترین معلومات


ہندوستان کی جنگ آزادی میں علما و ادبا کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔‘‘[جامعہ اشرفیہ]

آج جنت نشان ہندوستان کا بہترواں جشن آزادی ہے ، یہ تمام ہندستانیوں کے لیے انتہائی خوشی کا موقع ہے ، یہی وہ دن ہے جب ہم انگریزی تسلط سے آزادہوئے اور ہمیں آزادملک میں سانس لینے کا موقع ملا۔ لیکن یہ ملک یوں ہی آزاد نہیں ہوا ، بلکہ اس کی آزادی کی راہ میں لاکھوں ہندستانیوں کا خون بہا ہے، زندگیاں قربان ہوئی ہیں تب اسے آزادی ملی ہے ۔ اس کی آزادی کا خواب ۱۸۵۷ء سے بہت پہلے دیکھا جانے لگا تھا ، جب ملک کے کچھ علاقوں میں انگریزوں سے چھوٹی چھوٹی جھڑپیں اور جنگیں ہوئی تھیں ، نواب سراج الدولہ ، اور ٹیپو سلطان کی قربانیاں تاریخ ہند کا ایک تازہ ورق ہیں ۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ہندستانیوں کی جانب سے بہت بڑی کوشش تھی ، جسے انگریزوں نے ’’غدر ‘‘کا نام دیا تھا ، یہ چنگاری بطل حریت علامہ فضل حق خیرآبادی اور ان کے رفقا نے سلگائی تھی جو ۱۹۴۷ء تک آتے آتے شعلہ جوالہ بن گئی اور پھر ظالم انگریزوں کو یہ ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔ یہی پندرہ اگست کا دن تھا جب ہمیں یہ خوشی ملی تھی ، اس لیے یہ دن تمام ہندستانیوں کے لیے بہت بڑی خوشی کا دن ہے اور یہ ہمارا قومی تہوار بھی ہے ۔ اسی دن ہمارا ثقافتی ورثہ ہمارے قبضے میں آیا تھا اور ہمیں اس چمن میں خوشی سے جھومنے کا موقع ملا تھا ۔جنگ آزادی میں ہند و، مسلم ، سکھ اور عیسائی سب نے مل کر حصہ لیا ہے لہٰذا تاریخ ہندوستان میں ان تمام کو ہیرووں کی شکل میں یاد کیا جانا چاہیے ۔ نہ تاریخ لکھنے میں تعصب برتنا چاہیے ، نہ پیش کرنے میں ۔ یہ ان مجاہدین کا حق تھا جو انھیں ضرور ملنا چاہیے ۔ ہم امن کے داعی ہیں ، ملک میں شانتی چاہتے ہیں ، اس لیے ہم موڑ پر دہشت پسندی سے نفرت کرتے ہیں ، آج بھی ہم اعلان کرتے ہیں کہ جو اس دیش سے بغاوت والے لوگ ہیں ہم ان سے بیزار ہیں، ہمارا ان سے کوئی رشتہ ناطہ نہیں ۔یہ دیشن آزاد ہوا ہے، لہٰذا یہاں ہم سب کو آزادی کے ساتھ رہنے کا حق ہے ، اور یہ حق ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا ۔ ‘‘  

مذکورہ خیالات کا اظہار ملک کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور میں منعقدہ جشن آزادی کی باوقار محفل میں اساتذہ اشرفیہ نے کیا ۔ آٹھ بجے صبح الحاج صوفی محمد نظام الدین اور ناظم اعلیٰ الحاج سرفراز احمدصاحبان کے ہاتھوں پرچم کشائی کی رسم ادا کی گئی جس میں اساتذہ و طلبہ کی شرکت رہی ۔ اس کے بعد بزم جشن آزادی کا آغاز تلاوت قرآن اور نعت پاک سے ہوا، پھر ترانہ وطن پیش کیا گیا ۔ جامعہ اشرفیہ  کے ایک ہونہار طالب علم مولانا محمد زید فتح پوری نے ’’جنگ آزادی میں علما کاکردار‘‘ کے موضوع پر ایک اچھا خطاب کیا اور تاریخی حوالوں سے علما ے اہل سنت کی قربانیوں کو بیان کیا ۔ آخری خطاب جامعہ کے استاذ جناب ماسٹر قیصر جاوید صاحب کا ہوا۔ انھوں نے کافی دل چسپ حقائق پیش کیے اور جنگ آزادی کے متوالوں کو خراج عقیدت پیش کیا ،بطور خاص حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے اس علمی گلستان کی تعریف کی، جنھوں نے مبارک پور کی سرزمین پر علم و فن کا یہ قلعہ بنوایا اور تعلیم یافتہ ہندستانیوں کو ایک اچھے سماج کی تشکیل کا موقع فراہم کیا اور تقسیم ہند کی سخت مخالفت کی اور پاکستان جانے والے مسلمانوں کو وہاں ہجرت کرنے سے منع فرمایا۔ یہ قدم بھی تاریخ ہند میں درج ہونا چاہیے۔ پھر سامعین کی فرمائش پر اپنی لکھی ایک شان دار نظم سنائی جو کافی پسند کی گئی۔

صلاۃ و سلام اور جامعہ کے موقر استاذ حضرت مفتی محمد زاہد علی سلامی کی دعا پر اس محفل کا اختتام ہوا ۔جشن آزادی کی اس محفل میں کثیر تعداد میں طلبہ ،اساتذہ اشرفیہ ، اخبار کے نمائندوںاورعوام نے شرکت کی ۔

                                                                                                                                               

 

 

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved