17 December, 2018


تازہ ترین معلومات


پوسٹ مارٹم کی قانونی بالادستی سے مفر نہیں ، پولیس کاروائی میں آزاد ہے

مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور کے سہ روزہ ۲۵ویںفقہی سیمینار میں مفتیان کرام کا متفقہ فیصلہ

مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور کے ۲۵ویں فقہی سیمینارکی چوتھی نشست میں ’’پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت ‘‘ پر گرماگرم بحثیں ہوئیں ، یہ موضوع اس سیمینار کا انتہائی اہم موضوع تھااور اس سے متعلق ۳۴؍محققین علما وارباب افتا نے دو سو تینتیس صفحات پر مشتمل گراں قدر مقالات تحریر کیے ہیں ، ان کی تلخیص شیخ الادب مولانا نفیس احمد مصباحی نے کی تھی ، جسے انھوں نے حاضرین کے روبرو پیش کیا ۔ بعد نماز مغرب یہ نشست علامہ یٰسین اختر مصباحی ، بانی دارالقلم ، دہلی کی صدارت میں منعقد ہوئی ، اس نشست کے ناظم تھے جامعہ کے استاذ ومفتی بدرعالم مصباحی ۔ صدر محترم کا خطبہ صدارت مولانا ساجد علی مصباحی ، استاذ جامعہ اشرفیہ نے حاضرین کو پڑھ کر سنایا ۔ اس نشست میں بھی بطور خاص ڈاکٹر محب الحق قادری(گھوسی ، مئو )کی شرکت رہی جنھوں نے کافی تفصیل کے ساتھ پوسٹ مارٹم ، اس کے مقاصد ، علم تشریح الاعضا اور طب کی تعلیم کے لیے لاوارث لاشوں کی چیر پھاڑ سے متعلق گفتگو کی ، ساتھ ہی مندوبین کے سوالات کا جواب بھی دیا ۔ تقریباً ساڑھے دس بجے رات تک بحث کا سلسلہ جاری رہا ، مگر مندوبین کسی خاص نتیجے تک نہیں پہنچ سکے اور ناظم اجلاس نے مجلس کے اختتام کا اعلان کر دیا ۔سیمینار کی پانچویں اور آخری نشست ۲۹؍ نومبر ۲۰۱۸ء کی صبح ساڑھے آٹھ بجے تلاوت قرآن و نعت پاک سے شروع ہوئی۔ اس آخری اجلاس کی صدارت عزیز ملت علامہ عبدالحفیظ عزیزی دام ظلہ نے فرمائی اور نظامت مفتی بدر عالم مصباحی نے کی ۔تقریباً بارہ بجے جملہ مندوبین ان مسائل سے متعلق ایک فیصلے پر متفق ہوئے ۔ حاصل یہ ہے: ’’جن صورتوں میں دستورِ ہند کے نقطہ نظر سے پوسٹ مارٹم لازمی ہوتا ہے اور مقتول کے ولی اس سے بچنے کا اختیار نہیں رکھتے وہاں قانون اپنا کام کرے گا ، لہٰذا ولی کو ایسی تمام صورتوں میں خاموش رہنا چاہیے اور جن صورتوں میں ولیِ مقتول شرعاً ، قانوناً دیت یا خوں بہا کا حق دار ہوتا ہے مگر اس کے لیے قانوناً پوسٹ مارٹم ضروری ہو ،تو بھی وہ اپنے حقِ ثابت کا مطالبہ کرے ۔ اب اگر قانون کی بالادستی کے آگے وہ مجبور ہوتو معذور ہے ۔اسے طرح علم طب حاصل کرنے والوں کو کید ور ڈی سیکشن سے اور عوام وخواص کو ان کی طرف رجوع سے باز رکھنا ممکن نہیں ، اس میں ابتلائے عام ہوچکا ہے جو احکام میں باعث تخفیف ہے ، تام مناسب ہوگا کہ انسانی ماڈل اور اینی میٹیڈ ویڈیوز سے علم تشریح اعضا سیکھیں اور جدید ماہرین تشریح درس دیں ، اس میں کچھ کمی ہوتو الٹراساونڈ کی طرح کوئی باطن نما مشین ایجاد کریں۔‘‘ ناظم مجلس شرعی مفتی محمد نظام الدین رضوی نے اس کی اطلاع دی ۔اس سمینار میں سات شخصیات اور تنظیموں کو مجلس شرعی کی جانب سے سرپرست مجلس و سربراہ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ عزیز ملت دام ظلہ العالی کے ہاتھوں سپاس نامہ ، شال اور تحائف پیش کیے گئے جنھوں نے مبارک پوریا اس سے باہر ہندوستان کے دیگر شہروں میں سیمینار منعقد کروایا تھا اور مجلس کی مضبوط پشت پناہی کی تھی ، ان میںپروفیسر سید محمد امین میاں مارہروی (علی گڑھ)،مفتی حبیب یار خاں (اندور، ایم پی) مولانا محمد شاکر نوری ( ممبئی)، ذمہ دارانِ دعوت اسلامی ، ارکان جمعیت اہل سنت ( ممبئی)،مولانا وقار احمد عزیزی(بھیونڈی) اور مفتی ایاز احمد مصباحی(پونہ ، مہاراشٹر) شامل ہیں ۔اکثر مندوبین نے تحریری تاثرنامہ مجلس کو عطاکردیا تھا ۔ البتہ مفتی عبدالمنان کلیمی ، مرادآباد ، مولانا یٰسین اختر مصباحی ، دہلی اورعلامہ محمد احمد مصباحی ، اشرفیہ نے زبانی تاثر پیش کیا ۔ سرپرست مجلس شرعی نے جملہ شرکائے سیمینار کا شکریہ ادا کیا اور مجلس شرعی کے لیے ان کی علمی و تحقیقی کاوشوں کی سراہنا کی ، صلاۃ وسلام اور انھی کی دعا پر یہ کامیاب سیمینار ایک بجے اختتام کو پہنچا ۔اہم شرکامیں مولانا احمد رضا مصباحی ، مولانا مسعود احمد برکاتی ، مولانا اختر کمال قادری ، مولانا ناظم علی مصباحی ، مفتی محمد نسیم مصباحی ، مولانا صدر الوریٰ قادری ، مولانا مبارک حسین مصباحی ،مولانا نعیم الدین عزیزی ، مفتی زاہد علی سلامی ، مولانا دستگیر عالم مصباحی ، مولانا حسیب اختر مصباحی ، مولانا اختر حسین فیضی ، مولانا عرفان عالم مصباحی ، مفتی محمود علی مشاہدی ، مفتی محمد ناصر مصباحی، مولانا محمد قاسم مصباحی ، مولانا محمد ہارون مصباحی ، مولانا طفیل احمد مصباحی ،سکٹھی ، حافظ جمیل احمد عزیزی، قاری محمد جلال الدین قادری ،گورکھپور  وغیرہم قابل ذکر ہیں ۔

Copyright @ 2017. Al Jamiatul Ashrafia

All rights reserved